پھر ہوں بیمار کسی کو نہ یقیں آئے گا

سلام مچھلی شہری


اب عیادت کو مری کوئی نہیں آئے گا
پھر ہوں بیمار کسی کو نہ یقیں آئے گا
غم مسلسل ہو تو احباب بچھڑ جاتے ہیں
اب نہ کوئی دلِ تنہا کے قریں آئے گا
اپنے خوابوں کے دریچوں میں جلا لو شمعیں
اور یہ سوچ لو اک ماہ جبیں آئے گا
پھر نگار چمن وادی فردائے بہار
گل بدست مہ و انجم بہ جبیں آئے گا
ذہن تازہ کے لیے ساز حقیقت چھیڑو
چین اسے صرف تخیل سے کہیں آئے گا
صرف اپنے ہی عزائم پہ بھروسا کر لے
کام کوئی بھی نہ اے قلبِ حزیں آئے گا
روز پوجا کے لیے پھول سجاتا ہے سلامؔ
جانے کب اس کا خدا سوئے زمیں آئے گا
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست