جلوۂ وادی تاتار کو کیسے چھوڑوں

سلام مچھلی شہری


ان غزالان طرح دار کو کیسے چھوڑوں
جلوۂ وادی تاتار کو کیسے چھوڑوں
درد آگیں ہی سہی بربط پس منظر بزم
نشہ ہائے لب و رخسار کو کیسے چھوڑوں
اے تقاضائے غمِ دہر میں کیسے آؤں
لذتِ درد غمِ یار کو کیسے چھوڑوں
میں خزاں میں بھی پرستار رہا ہوں اس کا
موسمِ گل میں چمن زار کو کیسے چھوڑوں
اے مرے گھر کی فضاؤں سے گریزاں مہتاب
اپنے گھر کے در و دیوار کو کیسے چھوڑوں
ہائے دردِ دل بیزار کہ ہنگام خمار
دوست کہتے ہیں کہ مے خوار کو کیسے چھوڑوں
آج تو شمع ہواؤں سے یہ کہتی ہے سلامؔ
رات بھاری ہے میں بیمار کو کیسے چھوڑوں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست