خدا جانے ترے آغاز کا انجام کیا ہو گا

شاد عظیم آبادی


کسی کو کیا خبر اے صبح وقتِ شام کیا ہو گا
خدا جانے ترے آغاز کا انجام کیا ہو گا
گرفتاران گیسو پر نہیں کچھ منحصر ناصح
پھنسا ہے جو تعلق میں اسے آرام کیا ہو گا
عبث ہے زاہدوں کو مے کشی میں عذر ناداری
گرو رکھ لیں اسی کو جامۂ احرام کیا ہو گا
وہی رہ رہ کے گھبرانا وہی نا کار گر آہیں
سوا اس بات کے تجھ سے دلِ ناکام کیا ہو گا
اسے بھی جلد اٹھا کر طاق نسیاں کے حوالے کر
نہیں پیشِ نظر جب ختم تو ساقی جام کیا ہو گا
یہی ٹوٹے سبو مٹی کے کافی ہیں قناعت کر
بلوریں جامِ مے اے رند درد آشام کیا ہو گا
تقرب جن کو ہے ان کو بھی یک گونہ ہے مایوسی
یہ حالت ہے تو پھر دیدار تیرا عام کیا ہو گا
نہ پوچھو مفتیان شرع کا احوال جانے دو
تنفر کفر کو جس سے ہو وہ اسلام کیا ہو گا
سحر فرقت کی ہے اور غش پہ غش آتے ہیں عاشق کو
ابھی سے جب یہ حالت ہو گئی تا شام کیا ہو گا
ضعیفی میں تو شادؔ اللٰہ اکبر پی گیا خم تک
جوانی میں کہو یہ رند مے آشام کیا ہو گا
زمانہ شادؔ بے گاری میں کیوں آخر پھنساتا ہے
اپاہج کر دیا پیری نے مجھ سے کام کیا ہو گا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست