جی بہل جاتا کسی تدبیر سے

فانی بدایونی


آہ سے یا آہ کی تاثیر سے
جی بہل جاتا کسی تدبیر سے
اب سے غم سہنے کی عادت ہی سہی
صلح کر لیں لاؤ چرخِ پیر سے
جبر کو کیونکر نہ سمجھوں اختیار
تم نے باندھا ہے مجھے زنجیر سے
کام اب اس تدبیر پر ہے منحصر
واسطہ جس کو نہ ہو تقدیر سے
اس نگاہِ ناز کا اللہ رے فیض
نسبتیں ہیں زخمِ دل کو تیر سے
ہوشیار او شوخ بے پروا خرام
بچ کے میری خاک دامن گیر سے
عشق فانیؔ اس پہ اپنی یہ بساط
کھیلتی ہیں بجلیاں تصویر سے
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست