کوئی دن اور میں رسوا سرِ بازار سہی

مجروح سلطان پوری


دست منعم مری محنت کا خریدار سہی
کوئی دن اور میں رسوا سرِ بازار سہی
پھر بھی کہلاؤں گا آوارۂ گیسوئے بہار
میں ترا دام خزاں لاکھ گرفتار سہی
جست کرتا ہوں تو لڑ جاتی ہے منزل سے نظر
حائلِ راہ کوئی اور بھی دیوار سہی
غیرت سنگ ہے ساقی یہ گلوئے تشنہ
تیرے پیمانے میں جو موج ہے تلوار سہی
میں نے دیکھی دیکھی اسی میں غمِ دوراں کی جھلک
بے خبر رنگ جہاں سے نگہِ یار سہی
ان سے بچھڑے ہوئے مجروحؔ زمانہ گزرا
اب بھی ہونٹوں میں وہی گرمی رخسار سہی
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست