جرم یہ اقرار کے قابل نہیں

جلیل مانک پوری


رازِ عشق اظہار کے قابل نہیں
جرم یہ اقرار کے قابل نہیں
آنکھ پر خوں شق جگر دلِ داغ دار
کوئی نذر یار کے قابل نہیں
دید کے قابل حسیں تو ہیں بہت
ہر نظر دیدار کے قابل نہیں
دے رہے ہیں مے وہ اپنے ہاتھ سے
اب یہ شے انکار کے قابل نہیں
جان دینے کی اجازت دیجیے
سر مرا سرکار کے قابل نہیں
چھوڑ بھی گلشن کو اے نرگس کہیں
یہ ہوا بیمار کے قابل نہیں
شاعری کو طبع رنگیں چاہیے
ہر زمیں گل زار کے قابل نہیں
خامشی میری یہ کہتی ہے جلیلؔ
دردِ دل اظہار کے قابل نہیں
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست