اب مجھے دیکھ کے شاید تجھے دھوکا ہو گا

شاذ تمکنت


میری وحشت کا ترے شہر میں چرچا ہو گا
اب مجھے دیکھ کے شاید تجھے دھوکا ہو گا
صاف رستہ ہے چلے آؤ سوئے دیدہ و دل
عقل کی راہ سے آؤ گے تو پھیرا ہو گا
کون سمجھے گا بھلا حسن گریزاں کی ادا
میرے عیسیٰ نے مرا حال نہ پوچھا ہو گا
وجہِ بے رنگی ہر شام و سحر کیا ہو گی
میں نے شاید تجھے ہر رنگ میں دیکھا ہو گا
اب کہیں تو ہی ڈبووے ہمیں اے موجِ سراب
ورنہ پھر شکوۂ پایابی دریا ہو گا
کوئی تدبیر بتا اے دل آزار پسند
اس کو جی جاں سے بھلانے میں تو عرصہ ہو گا
حسن کی خلوت سادہ بھی ہے صد بزم طراز
عشق محفل میں بھی ہو گا تو اکیلا ہو گا
جھٹپٹا چھایا ہے کون آیا ہے دروازے پر
دیکھنا شاذؔ کوئی صبح کا بھولا ہو گا
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست