شہر کیا کم ہے مجھے خاک اڑانے کے لیے

شاذ تمکنت


دشت کیا شے ہے جنوں کیا ہے دوانے کے لیے
شہر کیا کم ہے مجھے خاک اڑانے کے لیے
ہم نے کیا جانیے کیا سوچ کے گلشن چھوڑا
فصلِ گل دیر ہی کیا تھی ترے آنے کے لیے
میں سرائے کے نگہباں کی طرح تنہا ہوں
ہائے وہ لوگ کہ جو آئے تھے جانے کے لیے
ہم وہی سوختہ سامان ازل ہیں کہ جنہیں
زندگی دور تک آئی تھی منانے کے لیے
دل کی محراب کو درکار ہے اک شمع فقط
وہ جلانے کے لیے ہو کہ بجھانے کے لیے
تو مری یاد سے غافل نہ تری یاد سے میں
ایک در پردہ کشاکش ہے بھلانے کے لیے
ضبط پیہم کے نثار اے دل آزار طلب
شرط‌‌ دامن بھی اٹھا اشک بہانے کے لیے
سن مجھے غور سے سن نغمۂ نا پیدا ہوں
کوئی آمادہ نہیں ساز اٹھانے کے لیے
حرفِ نا گفتہ کی روداد لیے پھرتے ہیں
پہلے کہتے تھے غزل ان کو سنانے کے لیے
دل کی دریوزہ گر حرفِ تسلی نہ رہا
ہم نے یہ رسم اٹھا دی ہے زمانے کے لیے
سانس روکے ہوئے پھرتا ہوں بھرے شہر میں شاذؔ
اس نے کیا راز دیا مجھ کو چھپانے کے لیے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست