جو چڑھا جائے خمستان جہاں
ہاں وہی لب
تشنگی درکار ہے
دیوتاؤں کا خدا سے ہو گا کام
سو گلستاں جس اداسی پر نثار
شاعری ہے سربسر تہذیب قلب
شعلہ میں لاتا ہے جو سوز و گداز
خوبی لفظ و بیاں سے کچھ سوا
قادرِ مطلق کو بھی انسان کی
سنتے ہیں بے
چارگی درکار ہے
اور ہوں گے طالب مدح جہاں
مجھ کو بس تیری
خوشی درکار ہے
عقل میں یوں تو نہیں کوئی کمی
ہوش والوں کو بھی میری رائے میں
ایک گونہ بے
خودی درکار ہے
خطرۂ بسیار دانی کی قسم
علم میں بھی کچھ
کمی درکار ہے
دوستو کافی نہیں چشم خرد
عشق کو بھی
روشنی درکار ہے
میری غزلوں میں حقائق ہیں فقط
تیرے پاس آیا ہوں کہنے ایک بات
مجھ کو تیری
دوستی درکار ہے
میں جفاؤں کا نہ کرتا یوں گلہ
اس کی زلف آراستہ پیراستہ
زندہ دل تھا تازہ دم تھا ہجر میں
آج مجھ کو بے
دلی درکار ہے
حلقہ حلقہ گیسوئے شب رنگ یار
مجھ کو تیری
ابتری درکار ہے
عقل نے کل میرے کانوں میں کہا
مجھ کو تیری
زندگی درکار ہے
تیز رو تہذیب عالم کو فراقؔ