جنت بھی ملے گی تو یہ غم ساتھ رہے گا

قتیل شفائی


اندیشۂ ارباب حرم ساتھ رہے گا
جنت بھی ملے گی تو یہ غم ساتھ رہے گا
پیاسے ہی گزر جائیں گے ہم راہِ طلب سے
عبرت کے لیے ساغرِ جم ساتھ رہے گا
منزل سے پلٹ آئے گی ایک ایک تجلی
ہاں شعلۂ رخسارِ صنم ساتھ رہے گا
تو اور نہ آئے در زندان وفا تک
مر کر بھی یہ غم تیری قسم ساتھ رہے گا
افلاک سے پلکوں پہ اتر آئیں گے تارے
کھل کر بھی شبِ غم کا بھرم ساتھ رہے گا
مے خانہ بہت دور نہیں دیدۂ نم سے
آ گردشِ دوراں کوئی دم ساتھ رہے گا
راہوں میں قتیلؔ آئیں گے سو آئنہ خانے
لیکن مرا گل پوش قلم ساتھ رہے گا
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست