جو خطا ممکن ہے مجھ سے بے خطا کرتا ہوں میں

شکیل بدایونی


جلوۂ حسن کرم کا آسرا کرتا ہوں میں
جو خطا ممکن ہے مجھ سے بے خطا کرتا ہوں میں
جب صبوحی لے کے ورد مرحبا کرتا ہوں میں
زندگی کو نیند سے چونکا دیا کرتا ہوں میں
ہائے وہ عالم کہ جب ہر شے سے گھبراتا ہوں میں
آپ ہی اپنی نگاہوں سے بچا کرتا ہوں میں
وہ بھی کیا دن تھے کہ تھا پینے پلانے ہی سے کام
ہائے اب چار آنسوؤں پر اکتفا کرتا ہوں میں
دل ربا ہوتے ہیں جن کے آخری لمحات زیست
اکثر ان پھولوں سے دامن بھر لیا کرتا ہوں میں
دیکھنے والے مری خاموشی لب کو نہ دیکھ
آنکھوں آنکھوں میں فسانہ کہہ دیا کرتا ہوں میں
مظہر حسنِ طلب ہو گی نگاہِ بے طلب
مدعا یہ ہے کہ ترک مدعا کرتا ہوں میں
صرف اس دھن میں کہ تعمیر محبت سہل ہو
جانے کن کن مشکلوں کا سامنا کرتا ہوں میں
دل لرز جاتا ہے سن کر ہر ستارے کا شکیلؔ
چاند سے تنہائیوں میں کچھ کہا کرتا ہوں میں
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست