چشم انجم میں بھی تو
پانی ہے
بے نیازانہ سن لیا غمِ دل
وہ بھلا میری بات کیا مانے
اس نے اپنی بھی بات
مانی ہے
شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہِ ساز
وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبو
بن کے معصوم سب کو تاڑ گئی
آپ بیتی کہو کہ جگ بیتی
دونوں عالم ہیں جس کے زیرِ نگیں
ہم تو خوش ہیں تری جفا پر بھی
سر بہ سر یہ فراز مہر و قمر
آج بھی سن رہے ہیں قصۂ عشق
ضبط کیجے تو دل ہے انگارا
ہے ٹھکانا یہ در ہی اس کا بھی
ان سے ایسے میں جو نہ ہو جائے
دل مرا اور یہ غمِ دنیا
گردش چشمِ ساقی دوراں
اے لب ناز کیا ہیں وہ اسرار
مے کدوں کے بھی ہوش اڑنے لگے
خودکشی پر ہے آج آمادہ
کوئی اظہار ناخوشی بھی نہیں
مجھ سے کہتا تھا کل فرشتۂ عشق
بحرِ ہستی بھی جس میں کھو جائے
مل گئے خاک میں ترے عشاق
زندگی انتظار ہے تیرا
کیوں نہ ہو غم سے ہی قماش اس کا
سونی دنیا میں اب تو میں ہوں اور
کچھ نہ پوچھو فراقؔ عہدِ شباب