باغباں پر زور چلتا ہے نہ کچھ
صیاد پر
سختیاں کرتا ہوں میں اپنے دلِ
ناشاد پر
ان کا رو دینا مزار کشتۂ
بیداد پر
ابرِ نیساں کی ہے بارش گلشن
برباد پر
وہ بھی ہیں افسردہ مرگ عاشقِ
ناشاد پر
کہنے والا کون ہے اب مرحبا
بیداد پر
کس گرفتار قفس کی آہ آتش بار سے
بجلیاں گرنے لگی ہیں خانۂ
صیاد پر
ان سے کیا ذکر تلاطم خیزی دریائے عشق
جو تلے بیٹھے ہوں ناصح ہرچہ بادا
باد پر
یا خیال ابروئے خوباں سے دل کو باز رکھ
یا رگِ گردن کو رکھ دے خنجرِ
فولاد پر
عشق صادق کو گوارا کیوں ہوا کیوں کر ہوا
حیلۂ پرویز غالب تیشۂ
فرہاد پر
بعد مردن روح تیرے خانماں برباد کی
ہو گی آوارہ فضائے نکہتِ
برباد پر
حلقۂ دام علائق بند مذہب قید ننگ
کس قدر پابندیاں ہیں فطرتِ
آزاد پر
اس قدر بڑھتے گئے قصے کہ دفتر ہو گئے
حاشیے چڑھتے گئے اے دل تری
روداد پر
نالہ کش ہو گر ترا غم دیدۂ ہجراں نصیب
فتنۂ شورِ قیامت چونک اٹھے
فریاد پر
اس میں اے معمار ہستی مصلحت تھی کون سی
ایسا قصر خوش نما اور ریت کی
بنیاد پر
یاد جس کی دل کا میرے حال کر دیتی ہے غیر
دل مجھے مجبور کرتا ہے اسی کی
یاد پر
دفن ہے ہندوستاں کی اس میں تہذیب قدیم
پھول برسا اے صبا خاک جہان
آباد پر
دل ہے بے ذوق غزل محرومؔ لیکن چند شعر
لکھ دیے ہیں حضرت ارمانؔ کے
ارشاد پر