اپنے غم کا مجھے کہاں
غم ہے
آگ میں جو پڑا وہ آگ ہوا
اس کے شیطان کو کہاں توفیق
دل کے دھڑکوں میں زور ضرب کلیم
ہے وہی عشق زندہ و جاؤید
اس میں ٹھہراؤ یا سکون کہاں
اک تڑپ موج تہ نشیں کی طرح
رہتی دنیا میں عشق کی دنیا
اٹھنے والی ہے بزم ماضی کی
یہ بھی نظم حیات ہے کوئی
اک معمہ ہے زندگی اے دوست
یہ بھی تیری ادائے
مبہم ہے
اے محبت تو اک عذاب سہی
اک تلاطم سا رنگ و نکہت کا
پھرنے کو ہے رسیلی نیم نگاہ
روپ کے جوت زیر پیراہن
میرے سینے سے لگ کے سو جاؤٔ
پلکیں بھاری ہیں رات بھی
کم ہے
آہ یہ مہربانیاں تیری
نرم و دوشیزہ کس قدر ہے نگاہ
مہر و مہ شعلہ ہائے ساز جمال
جس کی جھنکار اتنی
مدھم ہے
جیسے اچھلے جنوں کی پہلی شام
یوں بھی دل میں نہیں وہ پہلی امنگ
اور کیوں چھیڑتی ہے گردش چرخ
وہ نظر پھر گئی یہ کیا
کم ہے
روکش صد حریمِ دل ہے فضا
دیے جاتی ہے لو صدائے فراقؔ
ہاں وہی سوز و ساز کم
کم ہے