23 جون 1923 ۔ 15 جنوری 1997

افضل منہاس
نام وزیر احمد اور افضل تخلص تھا۔ضلع چکوال کے ایک گاؤں میں ۲۳؍جون ۱۹۲۳ء کو پیدا ہوئے۔ ساری زندگی راولپنڈی میں گزاری۔ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۷ء کو ان کا انتقال ہوا۔
مزید

05 مئی 1947 ۔ 15 جنوری 1996

محسن نقوی (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور مقبول ترین شعراء میں سے ہیں جنہیں "خوشبوؤں کا شاعر" اور "احساس کا ترجمان" کہا جاتا ہے۔
مزید

14 جنوری 1900 ۔ 21 دسمبر 1982

ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنھوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی۔ ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر شہرت دی۔
مزید

14 جنوری 1919 ۔ 10 مئی 2002

کیفی اعظمی
کیفی اعظمی (۱۹۱۸ء تا ۲۰۰۲ء) ترقی پسند تحریک کے ان ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے شاعری کو محلوں اور خوابوں سے نکال کر مزدوروں کی بستیوں اور انقلاب کے میدانوں تک پہنچا دیا۔
مزید

13 جنوری 1778 ۔ 13 جنوری 1847

حیدر علی آتش
آتش دبستان لکھنؤ کے نمائندہ اور اردو غزل کے ممتاز ترین شعراء میں سے ایک ہیں۔
مزید

12 جنوری 1931 ۔ 25 اگست 2008

احمد فراز
خواص اور عوام دونوں میں مقبول، وہ برصغیر کے ان چند شاعروں میں سے ایک تھے جن کی شاعری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ گایا بھی گیا۔ احمد فراز اپنے عہد کے ان شاعروں میں سے تھے جو ہر بڑے مشاعرے کی مجبوری تھے اوران کے چاہنے والے ان کے اشعار پر بے تحاشہ داد دیا کرتے تھے
مزید

تیرا عاشق انجمن ہی کیوں نہ ہو خلوت میں ہے

جوش ملیح آبادی


اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے
تیرا عاشق انجمن ہی کیوں نہ ہو خلوت میں ہے
جذب کر لینا تجلی روح کی عادت میں ہے
حسن کو محفوظ رکھنا عشق کی فطرت میں ہے
محو ہو جاتا ہوں اکثر میں کہ دشمن ہوں ترا
دل کشی کس درجہ اے دنیا تری صورت میں ہے
اف نکل جاتی ہے خطرے ہی کا موقعہ کیوں نہ ہو
حسن سے بیتاب ہو جانا مری فطرت میں ہے
اس کا اک ادنیٰ کرشمہ روح وہ اتنا عجیب
عقل استعجاب میں ہے فلسفہ حیرت میں ہے
نور کا تڑکا ہے دھیمی ہو چلی ہے چاندنی
ہل رہا ہے دل مرا مصروف وہ زینت میں ہے
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف